بھٹکل :30؍ڈسمبر (ایس او نیوز) جالی پٹن پنچایت کی ماہانہ میٹنگ پنچایت صدر سید آدم پنمبور کی صدارت میں بروز سنیچر پنچایت ہال میں منعقد ہوئی جس میں پینے کی پانی پر کافی بحث کے ساتھ ساتھ پٹن پنچایت کو ترقی دے کر سٹی میونسپالٹی میں منتقل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
میٹنگ میں ممبر سنُّو گونڈا نے کڈوین کٹا ڈیم سے سپلائی ہونے والے پینے کے پانی کے متعلق کہاکہ ڈیم میں پینے کے پانی کی ذخیرہ اندوزی نہیں ہورہی ہے، اور پانی کے تطہیر ی مرکز میں فلٹر بدلنے سے پانی کی سپلائی ٹھیک طرح سے نہیں ہورہی ہے اسی طرح انہوں نے وینکٹاپور حدود میں واٹر مین پر وقت پر پانی سپلائی نہ کرنے کا الزام لگایا۔
پنچایت ممبر عبدالرحیم نے صدر کے توسط سے افسران کو اس طرف توجہ دلائی کہ ڈیم میں پانی کی سطح میں کمی ہورہی ہے۔ انہوں نے پنچایت حدود میں ٹیکس اور جرمانے کے ساتھ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں سے ٹیکس وصول کرنے پر زور دیا اسی طرح پنچایت کو مطلع کئے بغیر غیرقانونی پانی کنکشن لینے پر متعلقہ کنکشن کو کاٹنے کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے بعض مقامات پر گدلا پانی سپلائی ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اُس طرف بھی توجہ دینے کے لئے کہا،اسی طرح پانی کی قلت ہونے سے پہلے ہی پیشگی اقدام کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ عبدالرحیم نے پنچایت حدود میں بعض جگہوں پر پینے کے پانی کے پائپ ٹوٹنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اگلے ایک ماہ کے اندر ان کو تبدیل کرنے پر زور دیا۔ ممبر آفتاب دامودی الزام لگایا کہ پینے کے پانی کے پائپ معیاری نہیں ہیں انہوں نے ایسے پائپوں کو بدلنے یا درست کرنے پر توجہ دلائی۔ انہوں نے چند مقامات پر پانی سپلائی ہونے کے بجائے پانی بے کارضائع ہونے پر افسران کو آڑے ہاتھ بھی لیا۔
ممبر ناگراج نائک نے چیف آفیسر سے جاری کاموں کے متعلق سوال کیا کہ پنچایت حدود کے کچھ علاقوں میں جاری کاموں کو اچانک روکنے کی وجہ دریافت کی اور پوچھا کہکس قانون کے مطابق ایسا کیاجارہاہے۔ جواب میں چیف آفیسر نے فون پر عوامی شکایات موصول ہونے پر متعلقہ کاموں کوروکنے کی بات کہی۔ اسٹانڈنگ کمیٹی چیرمین ایڈوکیٹ عمران لنکا نے کہاکہ آئندہ سے عوامی شکایت تحریر ی طورپر موصول ہونےکے بعد ہی کام روکنےکی ہدایات جاری کی جانی چاہئے۔پنچایت کو منظور کئے گئے 3ٹائلٹوں میں سے ایک ٹائلٹ نامدھاری ہال کو منظور کئے جانے پر گفتگو ہوئی ۔
میٹنگ میں نائب صدر لکشمی نائک، چیف آفیسر وینو گوپال شاستری اور کافی دیگر ممبران سمیت عملہ موجود تھا۔